عوام پاکستان پارٹی کے صدر شاہد خاقان عباسی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن اور ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے طویل مدتی توانائی پالیسی اپنانا ہوگی۔
اسلام آباد:
عوام پاکستان کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کی توانائی پالیسی میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے واضح اور طویل مدتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عارضی اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے زیادہ دیر تک منظم نہیں رکھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین شفاف اور مارکیٹ پر مبنی نظام کے تحت کیا جائے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے معیشت کو بار بار دھچکا نہ لگے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام اور معیشت دونوں پر پڑتا ہے۔
صدر عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ طویل عرصے تک پیٹرولیم مصنوعات پر بڑی سبسڈی فراہم کر سکے۔ ان کے مطابق وقتی ریلیف سے عوام کو کچھ سہولت تو مل سکتی ہے لیکن اس کا بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے اور یہ پالیسی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو فوری طور پر الیکٹرک گاڑیوں، خصوصاً الیکٹرک موٹر سائیکلوں، کی جانب منتقل ہونے کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً دو کروڑ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، اس لیے اگر الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو فروغ دیا جائے تو ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں گھروں اور کاروباری اداروں نے بغیر کسی بڑی سرکاری معاونت کے سولر سسٹم نصب کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر قابلِ عمل متبادل فراہم کیے جائیں تو عوام نئی توانائی کی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے تیار ہیں۔
آخر میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کو وقتی فیصلوں کے بجائے توانائی کے شعبے میں شفاف، مستقل اور طویل مدتی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے اور عوام کو پائیدار ریلیف فراہم کیا جا سکے۔